ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی تشدد: پولیس کو سخت پھٹکار لگانے والے جج جسٹس مرلی دھر کا تبادلہ

دہلی تشدد: پولیس کو سخت پھٹکار لگانے والے جج جسٹس مرلی دھر کا تبادلہ

Fri, 28 Feb 2020 10:25:18    S.O. News Service

نئی دہلی،28/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں گزشتہ تین روز تک جاری شرپسند عناصر کے حملوں میں 38/افراد کی دردناک موت اور کروڑوں روپئے کی املاک کی تباہی کے بعد جمعرات کے روز بھی ایک مسلم نوجوان کو ماردیاگیا۔

حالات پرامن ہونے کا دعویٰ کرنے والی پولیس کہاں تھی؟ کیا پولیس کی موجودگی میں اس پر حملہ ہوا یہ سوالات اٹھ ہی رہے تھے کہ جمعرات کی علی الصباح دہلی پولیس کو سخت پھٹکار لگانے والے دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس مرلی دھر کے تبادلہ کی خبر نے ہر ہندوستانی کو متحیر کردیا۔

بی جے پی جہاں اس کی صفائی میں یہ کہتے ہوئے نہیں تھک رہی ہے کہ مرلی دھر کا تبادلہ سپریم کورٹ کے کالجیم کی سفارش اور اچھی طرح سے قائم اصول وضوابط کے مطابق کیاگیا ہے۔

وہیں کانگریس نے کہا ہے کہ جسٹس مرلی دھرکا تبادلہ بی جے پی کے چند لیڈروں کو بچانے کے لئے کیاگیا ہے، اس سے عدلیہ کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے کا مودی حکومت کا چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔

پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی سے جج کے تبادلہ پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے انصاف کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔

کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے دعویٰ کیا کہ مرلی دھر کا تبادلہ، کپل مشرا اور کچھ دیگر بی جے پی لیڈروں کو بچانے کی سازش ہے۔

راہل گاندھی نے آنجہانی جسٹس لویا کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے حکومت کے اس قدم پر طنز کیا۔

پرینکا گاندھی نے ٹوئیٹ کرکے کہاکہ جسٹس مرلی دھرکا تبادلہ المناک اور انتہائی شرمناک ہے کروڑوں ہندوستانی شہریوں کو عدلیہ پر یقین ہے۔ انصاف کو ختم کرنے اور لوگوں کا اعتماد توڑنے کی یہ کوشش قابل مذمت ہے۔

واضح رہے کہ جسٹس مرلی دھر دہلی فسادات کی سماعت کررہے تھے اور دہلی پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ جلد لیں۔

جسٹس مرلی دھر نے پولیس کی غیر فعالیت کو لے کر بھی سخت پھٹکار لگائی تھی اور متاثرین کو تمام ضروری مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی۔

سرجے والا نے سوال اٹھایا ہے کہ ہائی کورٹ کی دو ججوں کی بنچ نے فساد بھڑکانے میں بی جے پی کے چند لیڈروں کے کردار کی شناخت کرکے ان کے خلاف سخت حکم جاری کیا اور پولیس کو قانون کے مطابق فوری طور پر کارروائی کرنے کا حکم دیا اس کے چند گھنٹے بعد ہی جج کا تبادلہ کردیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی حکومت نے عدلیہ کی جانب داری پر حملہ بولا ہے اور وہ عدلیہ کے خلاف انتقامی کارروائی کررہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا بی جے پی لیڈروں کو بچانے کے لئے جج کا تبادلہ کیاگیا ہے یا بی جے پی حکومت کو ڈرتھا کہ بی جے پی لیڈروں کی سازش بے نقاب ہوجائے گی۔ کتنے ججوں کا تبادلہ کریں گے، حق تو حق ہے وہ تو اپنی بات منواکر رہے گا۔ بی جے پی نے جسٹس کے ایم جوزف، جسٹس عقیل قریشی اور جسٹس گیتامتل کے معاملات میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔

اشتعال انگیز بیانات پر کارروائی کیلئے دہلی پولیس کو 4 ہفتوں کی مہلت: سیاسی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات پر ہائی کورٹ میں آج دوسرے روز سماعت ہوئی۔ دہلی پولیس نے کہا کہ بیان بازی کرنے والے لیڈران پر ایف آئی آر درج کرنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے اور اس سے دہلی میں تشدد مزید بھڑک سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس کے بعد دہلی پولیس کو 4 ہفتوں کی مہلت فراہم کر دی۔اگلی سماعت13/اپریل کو ہوگی۔

’دنگے تو ہوتے رہتے ہیں‘ ہریانہ کے وزیر کا شرمناک بیان: ہریانہ کی بی جے پی کی مخلوط حکومت میں وزیر رنجیت چوٹالہ نے دہلی تشدد پر نہایت شرم ناک اور غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے۔ وزیر نے کہا کہ ”دنگے تو ہوتے رہتے ہیں۔ پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، ایسا نہیں ہے! یہ تو زندگی کا حصہ ہیں، جو ہوتے رہتے ہیں۔

تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل: دہلی تشدد کیس کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی قائم کر دی گئی ہے، تمام ایف آئی آر کو کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی کو ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔

اجیت ڈوبھال کے دورہ کے بعد بھی قتل کی واردات، دودھ لینے گیا تھا مسلم نوجوان: این ایس اے (قومی سلامتی کے مشیر) اجیت ڈوبھال نے چہارشنبہ کے روز شمال مشرقی دہلی کا دورہ کیا تھا اور لوگوں سے ملاقات کر کے امن و امان بحال ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن اجیت ڈوبھال کے جانے کے بعد ایک شخص کو قتل کر دیا گیا۔ہلاک شدہ کی شناخت محمد عرفان کے طور پر ہوئی ہے اور متاثرہ اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے۔ کنبہ نے بتایا کہ اجیت ڈوبھال کے جانے کے بعد اس کا بیٹا دودھ لینے گیا تھا۔ اسی دوران ہجوم نے اسے گھیر لیا اور پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔


Share: